جاو دانی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - جاوداں کا اسم کیفیت، دوام، ہمیشگی۔      "آج مرے کل دوسرا دن، ٹھوکر لگی اور رہ گرائے عالم جاودانی، منزل گور کی مہمانی"     رجوع کریں:   ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٢ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم صفت 'جا وداں' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے 'جاودانی' بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧٠٧ء میں ولی کے "کلیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جاوداں کا اسم کیفیت، دوام، ہمیشگی۔      "آج مرے کل دوسرا دن، ٹھوکر لگی اور رہ گرائے عالم جاودانی، منزل گور کی مہمانی"     رجوع کریں:   ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٢ )

اصل لفظ: جاوِداں
جنس: مؤنث